پاکستان میں قانون نافد کرنے والے
اداروں نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے قافلے پر ممکنہ حملہ کرنے کے خدشے
کے پیش نظر ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حراست
میں لیے جانے والے شخص کا تعلق حساس ادارے سے تھا۔
پولیس کے مطابق وزیر اعظم کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں سے پوچھ گچھ کے بعد اس کو رہا کر دیا۔مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی شب وزیر اعظم محمد نواز شریف اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مری سے واپس اسلام آباد آرہے تھے کہ تھانہ سیکرٹریٹ کے علاقے ملپور کے قریب وزیر اعظم کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو شک گزرا کہ ایک گاڑی وزیر اعظم کے موٹر کیڈ کا پیچھا کر رہی ہے۔
پولیس اہلکار کے مطابق ٹریفک پولیس کی مدد سے اس گاڑی کو روکا گیا اور سکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے شک کی بنیاد پر حساس ادارے کے اہلکار کو حراست میں لے لیا اور اس سے پوچھ گچھ کے لیے نامعلوم مقام پر لے گئے۔
پولیس اہلکار کے مطابق جب حاس ادارے کے اہلکار نے اپنا تعارف کروایا اور اپنی شناخت کروائی تو اس کے بعد وزیر اعظم کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے پاس اسے رہا کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔
پولس نے مذکورہ سرکاری اہلکار کی گاڑی تھانہ سیکرٹریٹ میں بند کردی ہے جبکہ اس واقعہ سے متعلق وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے موٹر کیڈ میں داخل ہونے والے ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ترجمان وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے اس معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور جلد عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔
No comments:
Post a Comment